سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ون کیس میں اپیلوں کی جلد سماعت اور 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-اے کے تحت دائر کردہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جوڑے نے استدعا کی ہے کہ ان کی اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ حتمی فیصلہ ہو سکے۔
درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جیل حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ قانونی ٹیم کے ساتھ ملاقاتوں میں حائل رکاوٹوں کو ختم کریں تاکہ مقدمات کی پیروی کے لیے مشاورت ممکن ہو سکے۔
یہ اپیلیں احتساب عدالت نمبر ایک کے 31 جنوری 2024 کے اس فیصلے کو چیلنج کرتی ہیں جس میں دونوں کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپریل 2024 میں ان سزاؤں کو معطل کر دیا تھا، تاہم قانونی چارہ جوئی اب بھی التوا کا شکار ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں شواہد کو درست انداز میں نہیں پرکھا گیا۔ اس کے علاوہ عمران خان کی طبی حالت بالخصوص دائیں آنکھ کے ریٹینل وین اوکلوژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں علاج کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں۔
دوسری جانب بشریٰ بی بی نے القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطلی کی اپنی درخواست پر فوری فیصلے کے لیے الگ استدعا دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ دس ماہ سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے۔ درخواست میں قومی احتساب بیورو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ طریقہ کار میں تاخیر کے ذریعے عدالتی عمل کو متاثر کر رہا ہے۔
وکیل سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ اور علی ظفر پر مشتمل قانونی ٹیم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جیل میں قانونی مشاورت تک رسائی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ اس سے محرومی آئینی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، تاکہ مزید ناقابل تلافی نقصان سے بچا جا سکے۔
