-Advertisement-

ایران جنگ کے بعد جاپانی ملکیت کا پہلا ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا

تازہ ترین

ایران کے ساتھ کشیدگی: ٹرمپ کی ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری کی درخواست

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے سال 2027 کے لیے 1 اعشاریہ 5 ٹریلین ڈالر کے بھاری بھرکم...
-Advertisement-

جاپان سے تعلق رکھنے والے مائع قدرتی گیس کے ایک ٹینکر نے آبنائے ہرمز کو عبور کر لیا ہے۔ کمپنی مٹسوئی او ایس کے لائنز کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ جاپان سے منسلک پہلا بحری جہاز ہے جس نے اس اہم آبی گزرگاہ سے سفر کیا ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ پاناما کے پرچم بردار جہاز سوہار ایل این جی پر موجود عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاہم ترجمان نے اس بات کا انکشاف نہیں کیا کہ جہاز نے یہ راستہ کب عبور کیا اور آیا اس کے لیے کسی قسم کے مذاکرات کی ضرورت پیش آئی یا نہیں۔ اس پیش رفت کی اطلاع سب سے پہلے مقامی اخبار آسائی نے دی تھی۔

فروری کے اختتام پر ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو گئی تھی۔ جنگ سے قبل دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً بیس فیصد سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔ جاپان کے لیے یہ گزرگاہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ جاپان اپنی تیل کی نوے فیصد اور ایل این جی کی چھ فیصد درآمدات اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔

جاپان کی وزارت ٹرانسپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کی صبح تک جاپانی کمپنیوں کے پینتالیس بحری جہاز آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے باعث پھنسے ہوئے تھے۔ ان جہازوں میں بارہ خام تیل کے ٹینکر، بارہ ریفائنڈ مصنوعات کے ٹینکر، نو کار کیریئرز اور چھ ایل این جی ٹینکر شامل ہیں۔

مٹسوئی او ایس کے لائنز نے گزشتہ ماہ اطلاع دی تھی کہ ان کا ایک جہاز خطے میں معمولی متاثر ہوا تھا، تاہم اس واقعے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو فرانسیسی شپنگ گروپ سی ایم اے سی جی ایم کا ایک کنٹینر جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک چینی جہاز، بھارتی پرچم بردار گیس ٹینکر اور یونانی زیر انتظام خام تیل کا ٹینکر بھی اس آبی راستے کو استعمال کر چکے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -