ایرانی قیادت نے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ٹارگٹڈ حملوں اور کشیدہ صورتحال کے بعد اپنی حکومتی گرفت مضبوط دکھانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی صدر اور وزیر خارجہ نے تہران کی سڑکوں پر عوامی اجتماعات میں شرکت کر کے اپنی موجودگی کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی فوٹیج میں دونوں اعلیٰ حکام کو عام شہریوں کے ساتھ گھلتے ملتے، سیلفیاں بناتے اور ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام تہران کی جانب سے اپنی قوت اور استقامت کے اظہار کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عوامی دوروں کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی حملے سے متزلزل نہیں ہے اور ملک پر اس کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ کا آغاز اٹھائیس فروری کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی ہلاکت سے ہوا تھا۔ آٹھ مارچ کو منصب سنبھالنے والے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تاحال منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ عباس عراقچی کا نام گزشتہ ماہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مصالحتی کوششوں کے بعد اسرائیل کی ہٹ لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔
تہران کی جانب سے امریکی امن تجاویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دینے کے بعد جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ڈان کے تجزیہ کار امید معماریان کے مطابق حکام کا عوامی مقامات پر نکلنا اپنے حامیوں کا مورال بلند رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکن ہادی قائمی کا ماننا ہے کہ حکومت ان حامیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ٹارگٹڈ حملے کو مشکل بنایا جا سکے۔
اگرچہ ان اجتماعات میں شریک افراد نے قیادت سے وفاداری کا اظہار کیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ برسوں پر محیط کرپشن اور حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام کی بڑی تعداد بدظن ہے۔ حکومت نے کسی بھی ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے اور جنگ کے دوران سیاسی قیدیوں کو پھانسی دینے جیسے سخت اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث عام شہری خوفزدہ ہیں اور گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہیں۔
