یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اہم سکیورٹی امور پر مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ گئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں کا مقصد دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
صدر زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ یورپی خطے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس دورے کے دوران دونوں رہنماوں کے درمیان اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
یوکرین نے حال ہی میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ سکیورٹی تعاون کے معاہدے کیے ہیں اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی اس نوعیت کے رابطے جاری ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ روس کے خلاف جنگ کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں حاصل کردہ مہارت کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اثاثے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
روس کی جانب سے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے ایرانی ساختہ ڈرونز کا استعمال ایک اہم موضوع رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ زیلنسکی اپنے دورے کے دوران آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریاک برتھولومیو سے بھی ملاقات کریں گے۔
