-Advertisement-

اسحاق ڈار کی بحرینی ہم منصب سے گفتگو، مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئے پاک-چین پانچ نکاتی فارمولے پر زور

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال: پاکستان سے 76 بین الاقوامی پروازیں منسوخ

اسلام آباد سمیت ملک بھر کے بڑے ہوائی اڈوں سے مشرق وسطیٰ جانے والی 76 بین الاقوامی پروازیں منسوخ...
-Advertisement-

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان اور چین کے پانچ نکاتی اقدام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیر الجہتی فورمز پر جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔ اسحاق ڈار نے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ بحرین کے وزیر خارجہ نے خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک نے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کی جانب سے فریقین کو مذاکرات کے لیے میزبانی کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی ثالثی کوششوں پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے امریکی میڈیا میں ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جاری غیر قانونی جنگ کے حتمی اور مستقل خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کی وضاحت کو سراہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کا بیان ان مغربی اور بھارتی میڈیا مہمات کا منہ توڑ جواب ہے جو ایران کی سفارتی آمادگی کے حوالے سے غلط بیانی کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری روابط کے ذریعے ایک ایماندار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

پس پردہ سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں، اگرچہ امریکہ اور ایران کے مابین اعلیٰ سطحی مذاکرات کی ابتدائی کوششیں تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی نمائندوں کے درمیان ملاقات کی تیاریاں کی گئی تھیں تاہم فریقین کی جانب سے داخلی مشاورت کے لیے مزید وقت مانگنے کے باعث یہ ملاقاتیں مؤخر ہوئیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے امکانات تاحال موجود ہیں اور کوششیں جاری ہیں۔

اس سے قبل، پاکستان نے ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی میزبانی بھی کی تھی جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی کو کم کرنا تھا۔ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے سمیت خطے میں استحکام لانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خطے میں کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -