-Advertisement-

لاہور چیمبر آف کامرس: صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان خلیج ختم کرنے کے عزم کا اعادہ

تازہ ترین

پوپ فرانسس کا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے میں پہلے ایسٹر کا پیغام، امن و اتحاد پر زور

ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو چہار دہم پہلی بار بطور پونٹف ایسٹر سنڈے کی تقریبات کی قیادت کریں گے،...
-Advertisement-

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے مابین روابط کو مستحکم کرنے کے لیے قائم اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ ہفتے کے روز جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مہارت پر مبنی تعلیم کے فروغ اور تحقیق کو معاشی ترقی سے ہم آہنگ کرنے کے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ جدید عالمی معیشت کا دارومدار علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر ہے جبکہ پاکستان میں تعلیمی نتائج اور صنعتی ضروریات کے درمیان واضح خلیج موجود ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ لاہور چیمبر یونیورسٹیز، صنعت کاروں اور پالیسی سازوں کے مابین ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرے گا تاکہ تمام فریقین ایک متفقہ سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

صدر ایل سی سی آئی نے زور دیا کہ طلبہ کو نظریاتی تعلیم کے ساتھ عملی مہارتوں کی اشد ضرورت ہے۔ دورانِ تعلیم صنعتی ماحول سے آگاہی گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداواری صلاحیت کو بھی بہتر بنائے گی۔ انہوں نے مسلسل تعاون کو یقینی بنانے کے لیے شعبہ جاتی بنیادوں پر انڈسٹری-اکیڈمیا ورکنگ گروپس تشکیل دینے کی تجویز بھی دی۔

کمیٹی کے کنوینر عمر سلیم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صنعت اور جامعات کے مابین براہ راست رابطے کے فقدان کے باعث پاکستان میں ہونے والی تحقیق کا ایک بڑا حصہ عملی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیوں کے تحقیقی منصوبوں کو صنعتی چیلنجز سے منسلک کیا جانا چاہیے۔

عمر سلیم نے مزید تجویز پیش کی کہ فائنل ایئر کے پروجیکٹس، سٹارٹ اپ آئیڈیاز اور انکیوبیشن سینٹرز کو صنعتی معاونت فراہم کی جائے تاکہ نوجوان صرف ملازمت کے متلاشی بننے کے بجائے خود انحصاری کی راہ اختیار کرتے ہوئے انٹرپرینیور بن سکیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -