-Advertisement-

ایران کا دفاعی حق کا دعویٰ، صدر پزشکیان کی امریکیوں کو جنگی بیانیے پر نظرثانی کی اپیل

تازہ ترین

روس کا ایران کے معاملے پر امریکا کو ‘الٹی میٹم کی زبان’ ترک کرنے کا مشورہ

ماسکو نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ...
-Advertisement-

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں واضح کیا ہے کہ ایران ایک جارح ملک نہیں ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران کا ردعمل محض اپنے دفاع کا حق ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر نے امریکی قیادت کے بجائے براہ راست امریکی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنی تاریخ میں کبھی کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگ کا آغاز نہیں کیا۔

صدر پزشکیان نے زور دیا کہ ایران کو علاقائی خطرہ قرار دینا ایک بیانیہ ہے جس کا مقصد جارحیت کو جائز ٹھہرانا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ دراصل اسرائیل کی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے اور ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات جارحیت نہیں بلکہ دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا قانونی حق ہیں۔

خط میں انہوں نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی بیان بازی سے بالاتر ہو کر ایران کے حوالے سے اپنے حکومتی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ایرانی صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا آج امریکی حکومت کی ترجیحات میں واقعی امریکہ فرسٹ کا نعرہ شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنا ماضی کی نسبت کہیں زیادہ مہنگا اور بے سود ثابت ہوگا۔

صدر پزشکیان نے پاک و ہند تعلقات میں کشیدگی کا ذمہ دار 1953 کے فوجی بغاوت اور اس کے بعد ہونے والی امریکی مداخلت کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد کی جڑیں سابقہ حکومتوں کی حمایت، پابندیوں اور مذاکرات کے دوران عسکری جارحیت میں پیوست ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ تہران کو درمیانی ذرائع سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

دریں اثنا خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ عراق میں سرایا اولیاء الدم نامی مسلح گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے دوران اربیل سمیت امریکی تنصیبات پر چھ حملے کیے ہیں۔ اسی طرح اسلامک ریزسٹنس ان عراق نامی گروپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ عراق اور گردونواح میں امریکی اڈوں کے خلاف 41 آپریشنز کر چکے ہیں جن میں ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔ تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -