-Advertisement-

آپریشن ایپک فیوری: مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایران میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا

تازہ ترین

روس کا ایران کے معاملے پر امریکا کو ‘الٹی میٹم کی زبان’ ترک کرنے کا مشورہ

ماسکو نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ...
-Advertisement-

آپریشن ایپک فیوری کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران امریکی افواج نے ایران میں 1000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت کے پروگرام پروجیکٹ میون کو ایران کے خلاف امریکی حملوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جسے جدید جنگی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

پروجیکٹ میون کا آغاز 2017 میں ایک تجرباتی منصوبے کے طور پر ہوا تھا جس کا مقصد ڈرون فوٹیج کا تجزیہ کرنے والے فوجی اہلکاروں کی معاونت کرنا تھا۔ آٹھ برسوں میں یہ پروگرام ایک وسیع تر خودکار ہدف بندی اور جنگی انتظامی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جو دشمن کی نشاندہی سے لے کر اسے تباہ کرنے تک کے عمل کو انتہائی تیز کر دیتا ہے۔

سی ایس آئی ایس کے وادھوانی اے آئی سینٹر کے ڈائریکٹر آلوک مہتا کے مطابق یہ نظام سینسر ڈیٹا، سیٹلائٹ امیجز اور دشمن کی نقل و حرکت کی معلومات کو یکجا کر کے میدان جنگ کا ایک جامع منظر پیش کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کمانڈروں کو دستیاب وسائل کے مطابق اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فوری تجاویز فراہم کرتی ہے۔

پروجیکٹ میون میں پہلے کلود نامی اے آئی ماڈل کا استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم پینٹاگون اور اینتھروپک کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے کیونکہ کمپنی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس کے ماڈل کو خودکار حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اب پینٹاگون گوگل، ایکس اے آئی اور اوپن اے آئی کے ساتھ مل کر متبادل تلاش کر رہا ہے۔

اس پروگرام کی اخلاقی حیثیت پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سن 2018 میں گوگل کے تین ہزار سے زائد ملازمین نے اس منصوبے میں کمپنی کی شمولیت کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد گوگل نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ تاہم اب گوگل نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے قومی سلامتی کے امور میں دوبارہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔

موجودہ وقت میں پیلانٹیر ٹیکنالوجیز اس پروگرام کا مرکزی کنٹریکٹر بن چکا ہے اور اس کا اے آئی سسٹم پروجیکٹ میون کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پیلانٹیر کے سی ای او ایلکس کارپ کا کہنا ہے کہ جنگی عمل کو گھنٹوں سے سیکنڈوں تک لانے والی یہ ٹیکنالوجی مخالفین کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

امریکی حکام نے ایران کے خلاف جاری آپریشن میں اس سسٹم کی کارکردگی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی حملوں کی مہم تین ہفتوں بعد روزانہ 300 سے 500 اہداف تک پہنچ گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے پہلے روز نشانہ بننے والے مقامات میں ایک اسکول بھی شامل تھا جو ماضی میں فوجی کمپلیکس کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں 7 سے 12 سال کی عمر کے 168 بچے جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -