-Advertisement-

پاکستان نے افغان حکومت کے شہری ہلاکتوں کے دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر دیا

تازہ ترین

ارومچی مذاکرات: پاکستان کے افغان طالبان کے سامنے تین اہم مطالبات پیش

چین کی ثالثی میں ارمچی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کے سامنے اپنے تین...
-Advertisement-

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں 750 سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی وزارت نے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ 22 فروری سے 4 اپریل کے درمیان پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں 761 شہری ہلاک اور 621 زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس دوران 27 ہزار 407 خاندان بے گھر ہوئے اور پاکستانی افواج نے 15 ہزار کے قریب میزائل اور آرٹلری شیل فائر کیے جس سے 1100 سے زائد مکانات تباہ ہوئے۔

وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان ترجمان نے ایک بار پھر جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صرف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو درست اہداف کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان اپنی کارروائیوں کے دستاویزی ثبوت اور فوٹیج باقاعدگی سے جاری کرتا ہے، جبکہ افغان حکومت عادی پروپیگنڈا مشینری کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ پوری دنیا گواہ ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ افغان طالبان حکومت اور ان کے کارندے دہشت گردی میں ملوث ہیں، جس کی تازہ ترین مثال بنوں کے علاقے ڈومیل میں بزدلانہ حملہ ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت 10 شہری شہید ہوئے۔

وفاقی وزارت نے نشاندہی کی کہ حمد اللہ فطرت اور دیگر ترجمان اکثر پرانی، جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پروپیگنڈا ویڈیوز پھیلاتے ہیں جنہیں بھارتی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کی مدد حاصل ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ آپریشن غضب الحق، جو عید الفطر کے احترام میں مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا، کا مقصد سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرنا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -