پشاور ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ایک آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
مذکورہ درخواست میں وزارت بجلی، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت پیٹرولیم اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو بھی مقدمے میں فریق شامل کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے ایک کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
مزید برآں، درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں یوٹیلٹی بلنگ کے نظام کو معیاری بنایا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
