-Advertisement-

امریکی کمانڈوز کا ایرانی حدود میں داخل ہو کر اپنے پائلٹ کو بازیاب کرانے کا دعویٰ

تازہ ترین

روسی فضائیہ کے سینئر کمانڈر طیارہ حادثے میں ہلاک، حکام کی تصدیق

روس کے زیر کنٹرول کریمیا میں پیش آنے والے ایک فضائی حادثے میں روسی فضائیہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر...
-Advertisement-

امریکی کمانڈوز نے ایرانی حدود میں گہرائی تک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے اپنے ایک لاپتہ فضائی اہلکار کو بحفاظت بازیاب کروا لیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اہلکار کی بحفاظت واپسی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔

تہران نے رواں ہفتے ایک امریکی ایف پندرہ جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم واشنگٹن نے طیارے کے گرنے کی وجوہات کی تصدیق نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے اس مشن کو امریکی تاریخ کا جرات مندانہ ترین سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک اعلیٰ عہدیدار کرنل کو باحفاظت واپس لایا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیوی سیل ٹیم سکس کے کمانڈوز نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ اس دوران امریکی لڑاکا طیاروں نے ایرانی قافلوں پر بمباری کی تاکہ انہیں ریسکیو مقام سے دور رکھا جا سکے۔ زخمی ہونے کے باوجود امریکی اہلکار ایک دن سے زائد عرصے تک پہاڑی علاقوں میں گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہا۔

آپریشن کے دوران دو امریکی ٹرانسپورٹ طیارے ایران کے ایک دور دراز اڈے پر پھنس گئے تھے، جنہیں دشمن کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے امریکی فوج نے خود ہی تباہ کر دیا۔ بعد ازاں دیگر تین طیاروں کے ذریعے اہلکار اور کمانڈوز کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی صوبہ اصفہان کے ایک متروک ہوائی اڈے پر کی گئی اور اس دوران دو سی ایک سو تیس ٹرانسپورٹ طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ کیے گئے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ انہوں نے اس مشن کے لیے دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس درجنوں طیارے روانہ کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی جائے گی۔ صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس سے قبل ایک اور پائلٹ کو بھی دشمن کے علاقے سے علیحدہ آپریشن کے ذریعے بازیاب کرایا گیا تھا، جس کی معلومات صیغہ راز میں رکھی گئی تھیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -