جرمنی میں نافذ ہونے والے نئے عسکری قانون کے تحت 17 سے 45 برس کی عمر کے مردوں کے لیے تین ماہ سے زائد عرصے کے لیے بیرون ملک قیام کی صورت میں پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی نقل و حرکت کا ریکارڈ رکھنا اور عسکری صلاحیتوں کو مستحکم کرنا ہے۔
یہ قانون رواں برس جنوری سے نافذ العمل ہے تاہم اس کی شقیں حال ہی میں میڈیا میں آنے کے بعد بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جرمنی میں فوجی سروس بدستور رضاکارانہ ہے اور غیر ضروری انتظامی بوجھ سے بچنے کے لیے ان افراد کو استثنیٰ دینے کے حوالے سے ضوابط تیار کیے جا رہے ہیں جو طویل عرصے کے لیے بیرون ملک قیام کے خواہشمند ہیں۔
یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں اس قانون کا اطلاق لاکھوں مردوں پر ہوتا ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد نیٹو کے اہداف کو پورا کرنا اور روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جرمن فوج بنڈس ویئر کی افرادی قوت میں اضافہ کرنا ہے۔
جرمنی کا ہدف ہے کہ سال 2035 تک فعال فوجیوں کی تعداد کو ایک لاکھ 83 ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ 60 ہزار تک پہنچایا جائے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز پہلے ہی ملٹری قیادت کو ہدایت کر چکے ہیں کہ ملک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو فوری طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس قانون پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے عوام میں الجھن پیدا ہوئی ہے اور حکومت کو اس معاملے پر مزید وضاحت دینی چاہیے۔ وزارت دفاع نے فی الحال اس عمل کے حتمی طریقہ کار پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
