-Advertisement-

سندھ حکومت کا موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول پر سبسڈی پروگرام کا آغاز

تازہ ترین

بہاماس: کشتی سے گر کر امریکی خاتون لاپتہ، شوہر کا دعویٰ

بہاماس میں امریکی خاتون کی سمندر میں گمشدگی کا معاملہ سامنے آیا ہے، پولیس حکام لاپتہ خاتون کی تلاش...
-Advertisement-

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیر کے روز پیپلز موٹرسائیکل فیول سبسڈی پروگرام کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے رجسٹریشن کے عمل کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ رجسٹرڈ موٹرسائیکل مالکان کو 20 لیٹر ایندھن پر 57 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ صوبائی حکومت فی لیٹر 100 روپے تک کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے تصدیق کی کہ موٹرسائیکل کی منتقلی کی 500 روپے فیس ختم کر دی گئی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر موٹرسائیکل مالکان کے لیے ماہانہ 2 ہزار روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو بھی 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔ پیٹرول کی قیمت میں حال ہی میں 137 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد قیمت 458.4 روپے تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔

سبسڈی کے حصول کے لیے درخواستیں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں جبکہ تین روز میں موبائل ایپلیکیشن بھی فعال کر دی جائے گی۔ ایکسائز کے دفاتر ہفتہ وار تعطیلات سمیت آدھی رات تک کھلے رہیں گے۔ ادائیگی براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی جس کے لیے آئی بی این نمبر فراہم کرنا لازمی ہے۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ غلط معلومات فراہم کرنے پر ادائیگی روک دی جائے گی اور بینک اکاؤنٹ کا موٹرسائیکل کے مالکانہ حقوق سے مطابقت رکھنا ضروری ہے۔ سندھ بینک کے اکاؤنٹس کی تصدیق 24 گھنٹے جبکہ دیگر بینکوں کے لیے تین دن کا وقت درکار ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آٹا اور دالیں مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ٹرانسپورٹرز کے بجائے براہ راست عام آدمی کو ریلیف پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ مراد علی شاہ کے مطابق سندھ حکومت وفاق کے ساتھ مل کر کاروبار بند کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت کر رہی ہے تاکہ صوبے اور کراچی کی صورتحال کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غریب ترین طبقے کو براہ راست امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور وفاقی اتھارٹی کا احترام کرتے ہوئے سندھ اپنے معاشی حالات کے مطابق اقدامات جاری رکھے گا۔ درخواست دہندگان کی رہنمائی کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -