-Advertisement-

یوکرین جنگ: امریکا کو جدید طرزِ جنگ سیکھنے کی ضرورت ہے، سابق سی آئی اے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس

تازہ ترین

ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو منگل تک تباہ کن کارروائی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر منگل کی رات تک کوئی معاہدہ طے...
-Advertisement-

سابق امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے وہ اب تک 10 بار یوکرین کا دورہ کر چکے ہیں۔ اپنے حالیہ دورے کے دوران امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا کہ اب میدانِ جنگ میں روس کو برتری حاصل نہیں رہی۔

پیٹریاس کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران یوکرینی افواج نے روسی فوج کے مقابلے میں زیادہ پیش قدمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو افرادی قوت، عسکری ساز و سامان اور معاشی لحاظ سے برتری حاصل ہونے کے باوجود یوکرین نے اپنی جدت طرازی کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پا لیا ہے۔

سابق سی آئی اے ڈائریکٹر نے یوکرین کی کامیابی کا راز ان کے ڈرون سسٹم اور اس کے گرد بنے مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ایکو سسٹم کو قرار دیا۔ انہوں نے ڈیلٹا بیٹل مینجمنٹ پلیٹ فارم کا ذکر کیا جو ایک ڈیجیٹل نقشے کی طرح کام کرتا ہے، جس کے ذریعے یوکرینی افواج فرنٹ لائن کے قریب 20 میل کے علاقے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یوکرین میں ڈرون کی پیداوار کے حوالے سے پیٹریاس نے بتایا کہ ایک مقامی مینوفیکچرر رواں سال 30 لاکھ ڈرون تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ گزشتہ برس امریکہ کی کل پیداوار صرف 3 لاکھ ڈرون تھی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ان ٹیکنالوجیز کو مزید تیز کرے گا۔

پیٹریاس نے پیش گوئی کی کہ مستقبل میں ایسے الگورتھمک ڈرون متعارف ہوں گے جنہیں جیم (jam) کرنا ناممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے چند برسوں میں مکمل طور پر خودکار نظام بھی میدان جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں جہاں انسان صرف مشن طے کرے گا اور مشینیں اسے انجام دیں گی۔

امریکی جنرل نے مغربی ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ روایتی آرمرڈ بٹالینز کے بجائے ڈرون بٹالینز پر توجہ دیں۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے الگ ڈرون فورس کے قیام کو جنگی حکمت عملی میں ایک نیا معیار قرار دیا۔

تاہم، پیٹریاس نے خبردار کیا کہ ڈرون ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہوتا اضافہ دہشت گردی کے خطرات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون کے جھنڈ (swarms) کے خلاف دفاعی نظام ابھی تک موجود نہیں ہے، جس کے لیے دنیا کو بہت تیزی سے سیکھنے اور تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -