ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن نے انسانی خلائی سفر میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورائن خلائی جہاز نے پیر کے روز گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر تین بج کر اٹھاون منٹ پر چار سو ایک ہزار ایک سو اکہتر کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اپالو تیرہ کا قائم کردہ طویل فاصلے کا ریکارڈ توڑ دیا۔
مشن میں شامل چار خلابازوں پر مشتمل عملہ پیر ہی کے روز زمین سے چار لاکھ چھ ہزار سات سو اٹھاسی کلومیٹر کے دور ترین مقام تک پہنچنے کی توقع رکھتا ہے۔ یہ تاریخی سفر چاند کے گرد مکمل کیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مشن کے دوران خلاباز چاند کی دوسری جانب کا جائزہ لیں گے اور چھ گھنٹے سے زائد وقت تک قمری سطح کی دستاویزی فلم بندی اور مشاہدے میں گزاریں گے۔
اس اہم مرحلے کے بعد اورائن کیپسول فری ریٹرن ٹریجیکٹری کے ذریعے زمین کی جانب لوٹے گا جس میں تقریباً چار دن کا وقت درکار ہوگا۔ مشن کے دوران خلابازوں کو اپالو کے آنجہانی خلاباز جم لوول کا خصوصی پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوں۔
خلابازوں نے پہلے سے نہ دیکھے گئے قمری خطے کی تصاویر بھی لی ہیں جن میں اورینٹیل بیسن نامی وسیع گڑھا شامل ہے جسے اب تک صرف بغیر پائلٹ کے مشنز ہی دیکھ سکے تھے۔ ناسا کی لیڈ سائنٹسٹ کیلسی ینگ کا کہنا ہے کہ انسانی آنکھ قدرت کا بہترین کیمرہ ہے جو کسی بھی مصنوعی آلے سے کہیں زیادہ بہتر مشاہدہ کر سکتی ہے۔
ہیوسٹن میں قائم جانسن اسپیس سینٹر میں ماہرین کی ٹیم مشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے۔ آرٹیمس ٹو مشن کئی اعتبار سے تاریخی ہے، وکٹر گلوور چاند کے مدار میں جانے والے پہلے سیاہ فام، کرسٹینا کوچ پہلی خاتون اور جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی خلاباز بن گئے ہیں۔
چاند کے عقب سے گزرتے ہوئے چالیس منٹ تک خلائی جہاز کا زمین سے رابطہ منقطع رہے گا۔ ماہرین کے مطابق خلائی جہاز سے چاند ایک باسکٹ بال جتنا دکھائی دے گا۔ ناسا ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین کے مطابق یہ مشن آرٹیمس تھری کے دو ہزار ستائیس اور آرٹیمس فور کے دو ہزار اٹھائیس میں متوقع قمری لینڈنگ کے مشنز کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
