-Advertisement-

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کی قرارداد: چین اور روس کا ویٹو

تازہ ترین

عراق میں مغوی امریکی صحافی شیلی کٹلسن بازیاب

عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کتیب حزب اللہ کی جانب سے اغوا کی جانے والی امریکی...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کے روز بحرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا ہے۔ اس قرارداد کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششوں کو فروغ دینا تھا۔

پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں قرارداد کے حق میں گیارہ ووٹ ڈالے گئے جبکہ چین اور روس نے اس کی مخالفت کی اور دو ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کونسل کو آگاہ کیا کہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی جانب سے منفی ووٹ کے باعث قرارداد منظور نہیں ہو سکی۔

اس مسودے میں تجویز دی گئی تھی کہ سلامتی کونسل رکن ممالک کو اس بات کا اختیار دے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی نقل و حمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کو روکنے کے لیے فوجی طاقت سمیت تمام ضروری ذرائع استعمال کر سکیں۔

کئی ہفتوں پر محیط بند کمرہ مذاکرات کے بعد اس قرارداد کا چوتھا مسودہ تیار کیا گیا تھا جسے شروع ہی سے کونسل کے کچھ مستقل ارکان کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق روس، چین اور فرانس نے مسودے میں شامل ایسی کسی بھی شق کی مخالفت کی جس سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو قانونی جواز مل سکتا ہو۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل کو فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

یہ قرارداد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو کھلا رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی قانونی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی۔ یہ گزرگاہ دنیا کے حساس ترین توانائی راہداریوں میں سے ایک ہے جہاں کسی بھی قسم کا تناؤ عالمی تیل کی منڈیوں اور سمندری سکیورٹی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -