راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر ہونے والے پرتشدد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے معاملے پر قانون حرکت میں آ گیا ہے۔ پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ سمیت چار سو سے زائد کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر میں نسرین نیازی، رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک، خیبر پختونخوا کے وزیر مینا خان آفریدی، شفیع جان، سینیٹر مرزا آفریدی، اقبال خان آفریدی، نعیم پنجوتھہ، تنویر اسلم راجہ اور شفقت اعوان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق احتجاج کی کال علیمہ خان کی جانب سے دی گئی تھی۔
مقدمے کے متن کے مطابق مظاہرین نے پتھراؤ کر کے نو پولیس اہلکاروں کو شدید زخمی کیا جبکہ متعدد دیگر اہلکار بھی متاثر ہوئے۔ پولیس نے موقع سے اکتالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
کارروائی کے دوران پولیس نے تیرہ گاڑیاں بھی قبضے میں لی ہیں۔ ایک گاڑی جس کا نمبر ایل ایل ایف 2819 ہے، اس سے پیٹرول بم بنانے کا سامان بشمول پیٹرول سے بھری بوتلیں، کپاس، لاٹھیاں اور ماچس برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، اہم شاہراہیں بلاک کیں اور عوامی زندگی کو مفلوج کیا۔
سٹی صدر پولیس اسٹیشن میں درج ہونے والی اس ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی، اقدام قتل، بغاوت اور سرکاری امور میں مداخلت سمیت سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
