-Advertisement-

امریکی امیگریشن حراست کے دوران رواں برس 15 تارکین وطن ہلاک

تازہ ترین

پی ٹی آئی کا امریکا-ایران جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں پائیدار امن کے قیام پر زور

پاکستان تحریک انصاف نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم...
-Advertisement-

امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران 15 تارکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 سے اپریل کے اوائل تک پیش آنے والی یہ اموات اس تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں جس کا گزشتہ برس 31 ہلاکتوں کے ساتھ مشاہدہ کیا گیا تھا جو کہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔

انڈیانا کی میامی کریکشنل فیسیلیٹی میں یکم اپریل کو 55 سالہ ویتنامی شہری ٹوان وان بوئی مردہ حالت میں پائے گئے۔ حکام کے مطابق انہیں بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا اور ان کی موت کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔

لاس اینجلس کے ایڈیلاٹو پروسیسنگ سینٹر میں 25 مارچ کو میکسیکن شہری ہوزے گواڈالپے راموس کی موت واقع ہوئی۔ انہیں سیکیورٹی عملے نے ان کے بستر پر بے ہوش پایا، جس کے بعد ہسپتال منتقلی کے دوران انہیں مردہ قرار دیا گیا۔

فلوریڈا کے گلیڈز کاؤنٹی حراستی مرکز میں 16 مارچ کو 19 سالہ میکسیکن نوجوان روئر پیریز جیمنیز کی موت واقع ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ خودکشی کا کیس معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تاحال زیر تفتیش ہے۔ عملے نے انہیں زندہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

افغان شہری محمد نذیر پکتیاروال 14 مارچ کو ٹیکساس کے پارک لینڈ ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ وہ امریکی فوج کے سابقہ معاون تھے اور پناہ کی تلاش میں تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ناشتے کے دوران ان کی زبان میں سوجن دیکھی گئی جس کے بعد طبی امداد دی گئی لیکن وہ دم توڑ گئے۔

ایمانویل کلیفورڈ ڈاماس نامی ہیٹی کے شہری کا انتقال 2 مارچ کو ایریزونا کے ہسپتال میں ہوا۔ ان کے بھائی کا الزام ہے کہ موت کی وجہ دانت کا ناقابل علاج انفیکشن تھا، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کسی بھی دانت کے مسئلے کی تردید کی ہے۔

مسیسیپی کے ہسپتال میں یکم مارچ کو 59 سالہ ایرانی شہری پژمان کارشناس نجف آبادی کا انتقال ہوا۔ وہ طویل عرصے سے دائمی بیماریوں میں مبتلا تھے اور اپریل 2025 سے حراست میں تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -