-Advertisement-

سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکی فوج دوبارہ لڑائی کے لیے تیار ہے

تازہ ترین

اقوام متحدہ کے ایلچی تنازع کے پائیدار حل کے لیے ایران پہنچ گئے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے خصوصی ایلچی جین آرنالٹ ایران پہنچ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج کسی بھی حکم پر دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تہران کے ساتھ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو امریکی فوج گزشتہ 38 دنوں کی طرح فوری اور درستگی کے ساتھ عسکری کارروائیوں کا آغاز کر سکتی ہے۔ جنرل کین نے امید ظاہر کی کہ ایران پائیدار امن کا راستہ اختیار کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے ایک بیان میں جاری کشیدگی کو ایرانی قوم کے خلاف غیر قانونی اور مجرمانہ جنگ قرار دیتے ہوئے اسے اپنی تاریخی اور فیصلہ کن فتح قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر تو آ رہا ہے مگر امریکی مذاکرات کاروں پر اسے قطعاً کوئی اعتماد نہیں ہے۔ ایران نے خلیجی توانائی کی ترسیل کے راستوں پر اپنی گرفت کو اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران عسکری طور پر مکمل شکست کھا چکا ہے اور اب اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی دفاعی صنعت، بحریہ اور میزائل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں موجود رہے گی تاکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی نگرانی کی جا سکے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں طاقت کے زور پر قبضے میں لے لیا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -