امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ہنگری کے دورے کے دوران یورپی یونین پر ہنگری کے انتخابات میں مداخلت کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ وینس ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی انتخابی مہم کی حمایت کے لیے بوڈاپیسٹ میں موجود ہیں، جہاں اوربان کو اقتدار میں اپنی پانچویں مسلسل مدت کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ہنگری میں انتخابات اتوار بارہ اپریل کو منعقد ہوں گے۔
امریکی نائب صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں ہنگری آ کر اوربان کی حمایت کرنے پر غیر ملکی اثر و رسوخ کے الزامات کا سامنا ہے، تاہم وہ یورپی یونین کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وینس کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے ہنگری کی سرحدوں کے تحفظ کے بدلے اربوں ڈالر کی امداد روکنے کی دھمکی دراصل اصل غیر ملکی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ ان پر مداخلت کا الزام لگایا جا رہا ہے جبکہ وہ صرف اوربان کی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں۔
آزاد سروے رپورٹس کے مطابق ہنگری کے وزیر اعظم اور ان کی جماعت فیڈز کو اپنے اہم حریف پیٹر میگیار کے مقابلے میں کافی پیچھے دکھایا گیا ہے۔ فریڈم ہاؤس جیسی تنظیمیں بھی ہنگری میں شفاف انتخابات اور آزاد اداروں کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود اوربان کو امریکی ریپبلکن پارٹی اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ دورے کے دوران جے ڈی وینس نے فون پر ڈونلڈ ٹرمپ کی اوربان کے لیے حمایت کا اعادہ بھی کروایا۔
وینس نے ہنگری کو مغربی تہذیب کا محافظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ہنگری مشترکہ طور پر ان اقدار کا دفاع کر رہے ہیں جن میں تعلیم، خاندانی تحفظ اور مسیحی روایات شامل ہیں۔ انہوں نے ہنگری کے عوام سے اپیل کی کہ وہ برسلز میں بیٹھے بیوروکریٹس کے خلاف کھڑے ہوں اور اوربان کو دوبارہ منتخب کرائیں۔
دوسری جانب یورپی یونین نے امریکی نائب صدر کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے واضح کیا کہ یورپ میں انتخابات کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کرتے ہیں، نہ کہ کوئی ٹیکنالوجی کمپنی یا الگورتھم۔ یورپی یونین کی ترجمان انیتا ہیپر نے بھی کہا کہ یورپی یونین اپنے سفارتی ذرائع سے امریکی حکام کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کرے گی، تاہم انہوں نے ان تحفظات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
