-Advertisement-

جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ایران کا سعودی عرب کی آئل پائپ لائن پر حملہ

تازہ ترین

جنگ بندی ہمیشہ پیچیدہ ہوتی ہے، لبنان کو معاہدے میں شامل کرنے کا وعدہ نہیں کیا: جے ڈی وینس

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے...
-Advertisement-

ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایرانی فورسز نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے خام تیل کی برآمد کا واحد فعال ذریعہ تھی جسے حالیہ کشیدگی کے بعد سے استعمال کیا جا رہا تھا۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے میں سعودی عرب کی دیگر تنصیبات کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ پائپ لائن اس وقت مملکت کے مشرقی حصے سے روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل خام تیل بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچا رہی تھی، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خلیجی خطے میں تیل اور گیس کی ترسیل بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔

اس حملے کے نتیجے میں پائپ لائن سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی توانائی کے بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ تاہم نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خطے میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ینبع میں موجود امریکی کمپنیوں کی تیل کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

سعودی حکومت اور سعودی آرامکو کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس چھ ہفتہ طویل جنگ کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور عالمی توانائی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود دیگر خلیجی ممالک پر حملے نہیں رکے ہیں۔ کویتی فوج کے مطابق صبح آٹھ بجے سے ایران کی جانب سے شدید حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات، پاور پلانٹس اور پانی کو صاف کرنے والے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ بحرین نے بتایا ہے کہ ایرانی حملے سے سیترا کے علاقے میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودی آرامکو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی گنجائش کا تقریباً 20 لاکھ بیرل روزانہ مقامی ضروریات کے لیے استعمال کرتی ہے، جبکہ باقی 50 لاکھ بیرل برآمد کیا جاتا ہے۔ 23 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران ینبع سے اوسطاً 46 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کیا گیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -