-Advertisement-

جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کا آغاز

تازہ ترین

سینیٹ کمیٹی نے حکومت کے تین اہم بلز کی منظوری دے دی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس...
-Advertisement-

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے ٹریفک کی بحالی انتہائی محدود رہی۔ بحری نقل و حمل کے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک صرف دو بلک کیریئر جہازوں نے اس اہم آبی گزرگاہ کو عبور کیا ہے جبکہ تیسرا جہاز اس عمل کے آخری مراحل میں ہے۔

میری ٹائم مانیٹرنگ ادارے میرین ٹریفک کے مطابق، یونانی ملکیت کا بلک کیریئر این جے ارتھ صبح 8 بج کر 44 منٹ پر جبکہ لائبیریا کے پرچم بردار جہاز ڈے ٹونا بیچ نے صبح 6 بج کر 59 منٹ پر آبنائے کو عبور کیا۔ دونوں جہازوں نے ایران کے منظور شدہ راستے کا استعمال کیا۔ ڈے ٹونا بیچ نے اپنے ٹرانسپونڈر پر اپنی منزل متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ ظاہر کی ہے۔

تیسرا جہاز، بوٹسوانا کے پرچم بردار اور چینی ملکیت کا حامل ہائی لونگ ون، بدھ کی سہ پہر آبنائے سے گزرنے کا عمل مکمل کر رہا تھا۔ یہ اعداد و شمار صرف ان جہازوں تک محدود ہیں جن کے ٹرانسپونڈر آن تھے، اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ دیگر جہاز اپنے سگنل آف کر کے گزرے ہوں۔

کیپلر کی تجزیہ کار اینا سباسک کا کہنا ہے کہ این جے ارتھ کا گزرنا نقل و حمل میں بہتری کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ جنگ بندی کے اثرات ہیں یا کسی خصوصی اجازت کا نتیجہ۔

شپنگ جرنل لائیڈز لسٹ کے مطابق، خلیج میں پھنسے ہوئے تقریباً 800 جہازوں کے مالکان اور چارٹررز اب اپنی نقل و حرکت دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایران نے 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں آبنائے تک رسائی کو شدید محدود کر دیا تھا۔

کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 7 اپریل کے دوران اس راستے سے صرف 307 بار آمدورفت ہوئی، جو معمول کے مقابلے میں 95 فیصد کم ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ امن کے دنوں میں اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -