امریکی سینیٹر ایڈورڈ جے مارکی نے 8 اپریل 2026 کو ورلڈ افیئرز کونسل آف بوسٹن (ورلڈ بوسٹن) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن شاہد خان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس ملاقات کا مقصد مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور مکالمے کے فروغ کے لیے ورلڈ بوسٹن کی خدمات کو سراہنا تھا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب میں سماجی اور شہری زندگی سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی، جس میں تنظیم کی جانب سے ثقافتی ہم آہنگی اور سفارتی روابط بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا۔ تقریب میں چیئرمین جیمز ڈی ویلس، صدر جو ہینز، سی ای او سارہ سبلے، میئر چارلس سٹیٹسکی، مہین اور منظر خداداد، پیٹر ٹینگ، رک ایرووڈ، مزمل نذیر، مسعود شیخ اور جمشید خان بھی موجود تھے۔
سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ورلڈ بوسٹن جیسی تنظیمیں پائیدار امن کے لیے ناگزیر باہمی تعلقات اور مفاہمت قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے تعمیری مکالمے اور عوامی سطح پر سفارت کاری کے فروغ کے لیے شاہد خان اور تنظیم کی قیادت کی کاوشوں کو سراہا۔
شاہد خان نے سینیٹر مارکی کے دورے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس اعتراف پر فخر ہے، کیونکہ خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے عوامی سطح پر روابط اور پروقار تبادلہ خیال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ورلڈ بوسٹن کے چیئرمین جیمز ڈی ویلس نے کہا کہ تنظیم کا مشن مختلف طبقات اور نقطہ نظر رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔ یہ اجتماع اس بات کا اعادہ ہے کہ مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ورلڈ بوسٹن ایک غیر جانبدار تنظیم ہے جو تعلیمی پروگراموں، عوامی فورمز اور کمیونٹی شراکت داری کے ذریعے بوسٹن کے شہریوں کا دنیا بھر سے رابطہ قائم کرنے اور عالمی امور پر سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
