-Advertisement-

امریکی ریپبلکنز نے ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

تازہ ترین

یوکرین میں آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر 32 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے تہوار کے موقع پر یوکرین میں 32 گھنٹے کی جنگ بندی...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ریپبلکن ارکان نے کانگریس میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ کے تنازع پر ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل کے خلاف کانگریس میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے دوران سامنے آیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے متفقہ منظوری کے طریقہ کار کے تحت جنگی اختیارات کی ایک قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد ریکارڈ ووٹنگ کے بغیر اسے منظور کروانا تھا، تاہم ریپبلکن اکثریت کے پریذائیڈنگ آفیسر نے اس پر اعتراض اٹھا کر اسے روک دیا۔

واشنگٹن میں قانون سازوں کی عدم موجودگی کے دوران ہونے والا یہ علامتی اجلاس ڈیموکریٹس کے اس غصے کی عکاسی کرتا ہے جو ایک ایسے تنازع پر پایا جاتا ہے جسے کانگریس کی باضابطہ اجازت حاصل نہیں ہے۔ حکیم جیفریز نے اپنے ساتھیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کریں، کیونکہ ان کا موقف ہے کہ حال ہی میں اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی ناکافی ہے اور امریکا کو اس جنگ سے مکمل طور پر دستبردار ہونا چاہیے۔

دوسری جانب ریپبلکن ارکان نے صدر ٹرمپ کے اختیارات کو چیلنج کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اگرچہ کچھ ارکان کانگریس کی نگرانی نہ ہونے پر تشویش کا شکار ہیں، تاہم وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت سے گریزاں ہیں جو فوجی آپریشنز میں رکاوٹ کا باعث بن سکے۔

یہ ناکام کوشش آئندہ ہفتے ہونے والے ایک بڑے معرکے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جب تعطیلات کے بعد قانون سازوں کی واپسی پر ڈیموکریٹس قرارداد پر باقاعدہ ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حکیم جیفریز پرامید ہیں کہ قرارداد کی منظوری کے لیے چند ریپبلکن ارکان کا ساتھ ہی کافی ہوگا۔ سینیٹ میں بھی اقلیتی رہنما چک شومر اسی طرز کی کوششوں کا اشارہ دے چکے ہیں۔

سن 1973 کے وار پاورز ریزولیوشن کے تحت کانگریس غیر مجاز فوجی تنازع شروع ہونے کے 60 دنوں کے اندر کارروائی کرنے کی پابند ہے۔ اگر ایران کے خلاف جنگ جاری رہتی ہے تو یہ ڈیڈ لائن قانون سازوں پر دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

حکیم جیفریز نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ امریکی عوام ان کے ساتھ ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ انتظامیہ ایسی جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرے جبکہ وہ اپنے شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -