ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے ثالثی کے کردار پر پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے جس کے بعد دنیا بھر کے اہم رہنماؤں نے ان سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔
قطر کے امیر، بحرین کے بادشاہ، لبنان کے وزیراعظم، آسٹریا کے چانسلر، جرمنی کے چانسلر اور اٹلی کے وزیراعظم نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کر کے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مداخلت نے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے اعتراف پر جرمن چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور زور دیا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے جنگ بندی کا تسلسل ناگزیر ہے۔ دونوں رہنماؤں نے لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
بھارتی سیاست دان اور سابق سفارت کار ششی تھرور نے بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر موثر کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت سفارتی محاذ پر پیچھے رہ گیا ہے۔ تھرور نے ایران تنازع کے خاتمے میں پاکستان کے کردار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو حیران کن قرار دیتے ہوئے اسے بھارت کے لیے تزویراتی دھچکا قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اسے مزید سفارتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ ایران ہائی الرٹ پر ہے اور تہران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور مسلسل جارحیت مذاکرات کو بے معنی بنا دے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت ردعمل کی تنبیہ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدوں کے اہم نکات پہلے ہی پامال کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی فضائی حدود میں ڈرون داخلے اور یورینیم افزودگی کے حقوق سے انکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات غیر منطقی معلوم ہوتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل کے مزید اہداف باقی ہیں اور ضرورت پڑنے پر جنگ دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیل ایران میں افزودہ یورینیم کے خاتمے کے لیے طاقت یا معاہدے کے ذریعے کارروائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی تنازع کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے اسرائیل کے مکمل تعاون سے نافذ کیا گیا تھا۔
