-Advertisement-

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان نہیں

تازہ ترین

لبنان میں ایران جنگ کے باعث غذائی بحران کا خدشہ: عالمی ادارہ خوراک کی وارننگ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ کے باعث غذائی اجناس...
-Advertisement-

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نازک جنگ بندی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے جلد سابقہ سطح پر آنے کے امکانات معدوم ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے نقل و حمل معطل کر دی تھی، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا کلیدی راستہ ہے اور دنیا بھر کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔

توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور سپلائی کے راستوں میں خلل کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس بحران نے دیگر صنعتی شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس میں مینوفیکچرنگ اور کھادوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی ہیلیم کی سپلائی بھی شامل ہے، جس سے کئی خطوں میں زرعی پیداوار اور فصلوں کی بوائی کا عمل متاثر ہوا ہے۔

ماہرین کے نزدیک سب سے بڑا چیلنج آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے محفوظ اور مستحکم نظام کی بحالی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تنازع کے دوران اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو عالمی تجارت پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صورتحال کی مکمل بحالی میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے، جس کا انحصار بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور خطے میں پائیدار امن پر ہے۔ عراق جیسے ممالک نے بھی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں کمی کے باعث پیداوار میں کٹوتی کی ہے، جس سے سپلائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خلیجی ممالک سے توانائی کی سپلائی پر رسک پریمیم برقرار رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بلند رہیں گی۔ اگرچہ قلیل مدتی بنیادوں پر کچھ معطل شدہ سپلائی دوبارہ مارکیٹ میں آ سکتی ہے، تاہم مکمل بحالی کا دارومدار جنگ بندی کے استحکام اور وسیع تر سیاسی معاہدوں پر منحصر ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -