نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے ابتدائی جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور اس کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔
گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے بعد خطے میں جنگ بندی کے امکانات پیدا ہوئے تھے تاہم اس کے برعکس اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے جنگ بندی کے معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کو محدود کریں تاکہ وسیع تر جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جس سے سفارتی کوششوں کے ناکام ہونے اور خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے اور اسرائیلی کارروائیاں اس معاہدے کو کمزور کر سکتی ہیں۔ اسلام آباد ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے جو خطے میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے طے کیے گئے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس بات پر اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر ہوتا ہے یا نہیں۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں معاہدے کے دائرہ کار سے باہر ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ مسلسل حملے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں جو امن مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
