-Advertisement-

یورپی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد اسلامی دور کے علمی کارناموں پر رکھی گئی، مورخین کا انکشاف

تازہ ترین

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس پاکستان روانہ، ایران سے مذاکرات میں پیش رفت کے خواہاں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد...
-Advertisement-

یورپی نشاۃ ثانیہ، جسے اکثر کلاسیکی علوم کی بازگشت قرار دیا جاتا ہے، درحقیقت اسلامی دنیا میں ہونے والی سائنسی، تکنیکی اور فلسفیانہ ترقی کی مرہون منت ہے۔ مورخین کا ماننا ہے کہ اسلامی سنہری دور نے وہ بنیادی علمی اثاثہ اور نظریات فراہم کیے جنہیں بعد ازاں یورپی مفکرین نے نہ صرف اپنایا بلکہ ان میں مزید وسعت پیدا کی۔

اسلام کی آمد ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی جس نے مغربی عرب سے شروع ہو کر بحیرہ روم اور ایشیا تک کے مختلف ثقافتی خطوں کو ایک وحدانی عقیدے کے تحت یکجا کر دیا۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے بعد، 632 عیسوی میں آپ کی وفات کے بعد مسلم حکمرانوں نے اپنی حدود کو وسیع کرتے ہوئے ساسانی سلطنت کو شکست دی اور بازنطینی اثر و رسوخ کو کم کر کے شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کے حصوں تک اپنی حکمرانی قائم کی۔

قرآن کریم کی تلاوت پر زور دینے کے نتیجے میں اسلامی دنیا میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا، جس نے علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ اس کے برعکس، اس دور میں یورپ کا علم زیادہ تر مذہبی اشرافیہ تک محدود تھا جو لاطینی زبان میں تحریر کردہ مذہبی متون کی تشریح کے پابند تھے۔

عباسی خلافت کے دور میں، جس کا آغاز 750 عیسوی کے قریب ہوا، بغداد علم و حکمت کا مرکز بن کر ابھرا۔ یہاں بیت الحکمت قائم کی گئی جو سائنس، فلکیات اور فلسفے کے اہم ترین علمی ذخیروں میں سے ایک تھی۔ یہاں کے سکالرز نے یونانی، لاطینی، فارسی اور سنسکرت زبانوں کے علمی کاموں کا عربی میں ترجمہ کیا، جس کے بعد عربی زبان پوری سلطنت میں سائنسی رابطے کی زبان بن گئی۔ اس علمی عمل میں مسیحی اور یہودی سکالرز نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

کاغذ کی ٹیکنالوجی، جو چین سے درآمد کی گئی تھی، نے علم کی ترسیل کو آسان بنایا اور بعد ازاں یورپی پرنٹنگ پریس کی ایجاد میں معاون ثابت ہوئی۔ اسلامی علوم کے اثرات نشاۃ ثانیہ کے نامور شخصیات پر بھی نمایاں ہیں۔ اطالوی مفکر لیونارڈو ڈاونچی نے لاطینی زبان میں ترجمہ شدہ عربی سائنسی کاموں کا مطالعہ کیا تھا۔ خاص طور پر ابن الہیثم کا نظریاتِ بصارت اور روشنی پر کام، جسے کیمرہ آبسکیورا کے اصولوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، ڈاونچی کے فن پاروں جیسے دی لاسٹ سپر اور مونا لیزا میں لکیری تناظر کی تکنیک کے لیے بنیاد بنا۔

فلکیات کے میدان میں نکولس کوپرنیکس نے نصیر الدین الطوسی کے کام سے استفادہ کیا، جبکہ ریاضی میں ہندوستانی نژاد عرب ہندسوں اور الجبرا کے استعمال نے یورپ میں حساب کتاب اور بینکاری کے نظام میں انقلاب برپا کر دیا۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ یورپی نشاۃ ثانیہ اور اسلامی سنہری دور کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور جدید سائنس و ثقافت درحقیقت اسی مشترکہ علمی ورثے کا تسلسل ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -