امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کشیدہ رہی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے ساتھ براہ راست جنگ بندی کے مذاکرات کے اعلان سے کچھ دیر قبل ہوا۔
باخبر امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اگر انہوں نے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اعلان نہ کیا تو صدر ٹرمپ خود یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔
یہ رواں ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی کم از کم تیسری گفتگو تھی جس میں لبنان کی صورتحال سر فہرست رہی۔ اس سے قبل ہفتے کے اوائل میں بھی دونوں رہنماؤں نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان سے قبل بات چیت کی تھی۔ اس دوران نیتن یاہو نے مطالبہ کیا تھا کہ لبنان کو وسیع تر فریم ورک میں شامل نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایک روز بعد صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف فضائی حملوں میں کمی لائیں۔ یہ دباؤ لبنانی محکمہ صحت کی جانب سے اسرائیلی حملوں میں تین سو تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد ڈالا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کشیدگی کے دعووں کو جعلی قرار دیا ہے۔ دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت دوستانہ ماحول میں ہوئی اور وہ مکمل ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
