برطانوی شہزادے ہیری کی جانب سے افریقہ میں اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی یاد میں قائم کردہ فلاحی تنظیم سنٹیبالے اب خود ان کے خلاف قانونی جنگ میں مصروف ہے۔ لندن ہائی کورٹ میں دائر کردہ مقدمے میں شہزادہ ہیری اور ان کے قریبی دوست و ٹرسٹی مارک ڈائر کو ہتکِ عزت کے الزامات کا سامنا ہے۔
سنٹیبالے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پچیس مارچ دو ہزار پچیس سے ایک مربوط میڈیا مہم کے ذریعے تنظیم، اس کی قیادت اور اسٹریٹجک شراکت داروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے بعد تنظیم نے عدالت سے مداخلت اور تلافی کی استدعا کی ہے۔
یہ تنازع دو ہزار تیئیس میں فنڈ ریزنگ کی نئی حکمت عملی پر اختلافات کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ مارچ دو ہزار پچیس میں شہزادہ ہیری اور لیسوتھو کے شہزادے سیئسو نے تنظیم کے پیٹرن کے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے بورڈ کی چیئرپرسن سوفی چنڈوکا کے ساتھ تعلقات کو ناقابلِ اصلاح قرار دیتے ہوئے پانچ مستعفی ٹرسٹیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا۔
سوفی چنڈوکا نے شہزادہ ہیری پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے اور دھونس جمانے کی مہم چلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شہزادے نے ایک وسل بلوئر شکایت میں بھی مداخلت کی اور یہ معاملہ دراصل ایک کور اپ ہے۔
انگلینڈ اور ویلز کے چیریٹی کمیشن نے اس معاملے کی تحقیقات کے بعد دونوں فریقین کو عوامی سطح پر تنازع کو ہوا دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ کمیشن کے سی ای او ڈیوڈ ہولڈ ورتھ نے اگست دو ہزار پچیس میں کہا کہ اس تنازع نے تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور مستحقین کی مدد کے لیے کام کرنے کی صلاحیت کو خطرے میں ڈالا، تاہم کمیشن کو بڑے پیمانے پر ہراسانی یا بدسلوکی کے شواہد نہیں ملے۔
شہزادہ ہیری کے ترجمان نے چیریٹی کمیشن کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ سوفی چنڈوکا نے اس کا خیرمقدم کیا تھا۔ تاحال شہزادہ ہیری کے دفتر کی جانب سے اس عدالتی کارروائی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سنٹیبالے، جس کا لیسوتھو کی مقامی زبان میں مطلب مجھے مت بھولو ہے، سن دو ہزار چھ میں جنوبی افریقہ میں ایچ آئی وی کے شکار نوجوانوں کی مدد کے لیے قائم کی گئی تھی۔
