جنوبی کوریا کے شہر گویانگ میں عالمی شہرت یافتہ کے پاپ گروپ بی ٹی ایس نے اپنے طویل انتظار کے بعد آریرانگ ورلڈ ٹور کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ فوجی خدمات کی تکمیل کے بعد گروپ کا یہ پہلا بڑا دورہ ہے جس کے دوران مارچ 2027 تک 34 شہروں میں 82 کنسرٹس منعقد کیے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹور سے 2 اعشاریہ 7 ٹریلین وون کی آمدنی متوقع ہے جو کہ عالمی سطح پر ریکارڈ ساز سمجھی جا رہی ہے۔
گویانگ اسٹیڈیم میں منعقدہ افتتاحی کنسرٹ شدید بارش کے باوجود ہزاروں مداحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ گروپ نے ڈھائی گھنٹے سے زائد دورانیے پر مشتمل شو میں 23 گانے پیش کیے جن میں نئے البم آریرانگ کے علاوہ ان کے مقبول ترین گیت جیسے ڈائنامائٹ، بٹر اور پرمشن ٹو ڈانس شامل تھے۔ اس دوران گانے کم اوور کا لائیو ڈیبیو بھی کیا گیا جبکہ آئی نیڈ یو کے کوریوگرافی کو نئے انداز میں پیش کیا گیا۔
تاہم اس شو کے بعد سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین اور کچھ مداحوں کی جانب سے کوریوگرافی میں کمی، ڈانس کے کم سیکونس اور سولو پرفارمنسز کے نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شو کی پروڈکشن ڈیزائن اور مداحوں کے ساتھ رابطے کا معیار ماضی کے کنسرٹس کے مقابلے میں مختلف تھا۔
موسمی حالات نے بھی شو کی حرکیات پر اثر ڈالا، تاہم ہائپ کے چیئرمین بنگ سی ہیوک نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ گروپ نے جسمانی طور پر انتہائی تھکا دینے والی پرفارمنسز کے بجائے موسیقی کی ادائیگی پر توجہ مرکوز کرنے کا شعوری فیصلہ کیا ہے۔ یہ تبدیلی گروپ کے کیریئر کے نئے مرحلے کی عکاس ہے جہاں وہ محض تماشا دکھانے کے بجائے موسیقی کے معیار کو ترجیح دے رہے ہیں۔
آریرانگ البم پہلے ہی بل بورڈ 200 چارٹ پر دو ہفتوں تک سرفہرست رہ کر تاریخ رقم کر چکا ہے جبکہ اس کا مرکزی گیت سوئم ہاٹ 100 چارٹ پر پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ ٹور کے لیے ٹکٹوں کی مانگ غیر معمولی ہے اور جنوبی کوریا کے بعد اب یہ قافلہ شمالی امریکہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کا رخ کرے گا۔ گویانگ میں ہونے والی ابتدائی تنقید اور پذیرائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بی ٹی ایس اپنی پرفارمنس کے انداز کو تبدیل کرنے اور مداحوں کی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
