-Advertisement-

اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان تعمیری رابطوں کی امید

تازہ ترین

لاہور ہائی کورٹ: 22 سال بعد ضبط شدہ سونا اور ڈالر واپس کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے بائیس برس قبل کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط کی گئی تین کلو سونا اور...
-Advertisement-

اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اہم مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے جس میں شرکت کے لیے امریکی اور ایرانی وفود وفاقی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران اس فورم پر تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے تاکہ خطے میں جاری تنازع کا پرامن اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس تنازع کے حتمی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وانس کر رہے ہیں جبکہ وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے پر وفد کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے امریکی عزم کو سراہا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد ہفتے کی صبح اسلام آباد پہنچا۔ اس وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، سیکریٹری دفاعی کونسل، گورنر اسٹیٹ بینک اور ارکان پارلیمنٹ سمیت عسکری و سیاسی قیادت شامل ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دورے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام میں بتایا کہ وفد کے ہمراہ میناب کے اسکول کے بچے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اٹھائیس فروری کو میناب میں امریکی فضائی حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی یادگار اشیاء کی تصاویر بھی شیئر کیں۔

یاد رہے کہ میناب کے شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر ہونے والے اس میزائل حملے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ نیویارک ٹائمز کی گیارہ مارچ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ یہ حملہ ہدف کے کوآرڈینیٹس میں غلطی کے باعث ہوا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -