اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان سے روانگی کے موقع پر کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئے تھے تاہم امریکا کو ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے بنیادی عزم کے عملی مظاہرے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کی جانب سے واضح کمٹمنٹ کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں تھی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کو انتہائی شدید قرار دیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری مطالبات اور غیر قانونی خواہشات سے گریز کرے۔ ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے اور پابندیاں اٹھانے سمیت خطے میں جنگ کے خاتمے جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔
اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریق ثانی کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات ہفتے کی صبح سے اتوار کی صبح تک بلا تعطل جاری رہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سب سے بڑا تنازع رہا۔ اسی دوران اطلاعات ہیں کہ ایرانی پاسداران انقلاب، فضائیہ، بحریہ اور قدس فورس کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک وفد بھی پاکستان پہنچا ہے جو ایرانی مذاکراتی ٹیم کو مشاورت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیجنگ ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر کہا کہ اگر چین نے ایسا کیا تو اسے بڑے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
