-Advertisement-

یوکرین اور روس کا ایک دوسرے پر آرتھوڈوکس ایسٹر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

تازہ ترین

امریکا اعتماد سازی میں ناکام، ایران کا پاکستان کے کردار کو سراہنے کا اعلان

تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ ایرانی...
-Advertisement-

روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر کریملن کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعرات کو ایسٹر کے اختتام تک ۳۲ گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت روسی افواج کو ہفتے کی شام چار بجے سے اتوار کی رات تک کارروائیاں روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی پر عمل کرنے کا عندیہ دیا تھا تاہم کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری فوجی ردعمل کی تنبیہ بھی کی تھی۔

یوکرینی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے اتوار کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ صبح سات بجے تک جنگ بندی کی ۲۲۹۹ خلاف ورزیوں کا ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں ۲۸ حملے، ۴۷۹ بار گولہ باری اور ۷۴۷ اٹیک ڈرونز کے ساتھ ساتھ ۱۰۴۵ ایف پی وی ڈرونز کے حملے شامل ہیں۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے بھی اتوار کو جوابی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ۱۹۷۱ بار جنگ بندی کی خلاف ورزی دیکھی ہے۔ ماسکو کے مطابق یوکرین نے ۲۵۸ بار توپ خانے یا ٹینکوں کا استعمال کیا، ۱۳۲۹ بار ڈرون حملے کیے اور ۳۷۵ مرتبہ مختلف اقسام کا گولہ بارود گرایا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ جب تک صدر زیلنسکی روس کی شرائط تسلیم نہیں کرتے، عارضی جنگ بندی میں توسیع کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پیسکوف کا کہنا تھا کہ پائیدار امن تب ہی ممکن ہے جب روس اپنے اہداف حاصل کر لے، اور اگر زیلنسکی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ دکھائیں تو امن کا قیام آج ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بصورت دیگر عارضی جنگ بندی ختم ہوتے ہی خصوصی فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

فروری ۲۰۲۲ میں روس کے حملے کے بعد سے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار اب تک ناکام رہے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ عمل مزید تعطل کا شکار ہے۔

دارالحکومت کیف کے قریب ایک قومی ثقافتی پارک میں ہزاروں افراد نے سخت سیکیورٹی اور جنگ بندی کے ناکام ہونے کے خدشات کے باوجود ایسٹر کا تہوار منایا۔ عبادت گزاروں نے روایتی دعائیہ تقریبات میں شرکت کی اور اپنے ساتھ لائی گئی اشیاء پر دعائیں کروائیں۔

اس موقع پر موجود ارینا بلہاکووا نے امن کی امیدوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی تہواروں کے دوران جنگ بندی کے اعلان کے باوجود گولہ باری نہیں رکی۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیکی ہمیشہ تاریکی پر غالب آتی ہے اور انہیں امید ہے کہ حالات میں بہتری آئے گی۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -