یوکرین اور روس نے ایسٹر کے موقع پر کریملن کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے۔ آرتھوڈوکس مسیحیوں نے جنگی حالات کے باوجود اس تہوار کو روایتی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ جمعرات کو 32 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا اطلاق ہفتے کی سہ پہر چار بجے سے اتوار کی رات تک ہونا تھا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کا پاس رکھنے کا عندیہ دیا تھا تاہم خبردار کیا تھا کہ کسی بھی خلاف ورزی کا فوری فوجی جواب دیا جائے گا۔
یوکرینی فوج کے جنرل اسٹاف کے مطابق اتوار کی صبح سات بجے تک جنگ بندی کی 2299 خلاف ورزیوں کا ریکارڈ کیا گیا جن میں حملے، گولہ باری اور چھوٹے ڈرونز کا استعمال شامل ہے۔ تاہم اس دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، میزائلوں یا گائیڈڈ بموں کے استعمال کی اطلاع نہیں ملی۔ یوکرینی فوج کے ایک افسر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ روسی افواج نے ان کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار تک یوکرینی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی 1971 خلاف ورزیاں کی گئیں۔ بیلگوروڈ ریجن کے سربراہ ویاچسلاو گلاڈکوف نے بتایا کہ ہفتے کی دوپہر یوکرینی حملے میں دو شہری ہلاک ہوئے جن کی لاشیں ریسکیو ٹیموں نے نکال لی ہیں۔
کیف کے نواح میں واقع ایک نیشنل ہیریٹیج پارک میں ہزاروں افراد ایسٹر منانے کے لیے جمع ہوئے۔ عبادت گزاروں نے روایتی طریقے سے ٹوکریوں میں رکھے کھانوں اور انڈوں پر دعائیہ کلمات پڑھوائے۔ اس موقع پر شرکاء میں امن کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے گئے اور شہریوں کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود گولہ باری کا سلسلہ نہیں تھما۔
یوکرینی فوج کے چیپلن فادر رومن نے کہا کہ ایسٹر کا دن یوکرینی قوم کے لیے اپنی شناخت اور مستقبل پر یقین کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرحدوں اور اپنی شناخت کا دفاع کر رہے ہیں اور ہم ایک آزاد قوم ہیں۔
ادھر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کی اہلیہ اولینا نے اتوار کے روز ان بچوں سے ملاقات کی جن کے والدین جنگ کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ان بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں انمول ہیں اور ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ جنہوں نے یوکرین کے لیے قربانیاں دیں، ان کے بچے دنیا پر سے اپنا یقین نہ کھوئیں۔
