-Advertisement-

آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار خاتون کو سربراہِ فوج مقرر کر دیا گیا

تازہ ترین

ٹرمپ کی تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف آواز اٹھانا جاری رکھوں گا، پوپ فرانسس

پوپ لیو نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کے باوجود جنگ...
-Advertisement-

آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو فوج کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز نے ملک کی دفاعی قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوائل کی بطور آرمی چیف تقرری کی تصدیق کی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوائل، جو اس وقت چیف آف جوائنٹ کیپبلٹیز کے عہدے پر فائز ہیں، جولائی میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ وہ لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹوورٹ کی جگہ لیں گی۔ یہ تقرری آسٹریلوی فوج کی 125 سالہ تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ملکی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے سوزن کوائل کی تعیناتی کو انتہائی تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان خواتین کے لیے حوصلہ افزا ہے جو آسٹریلوی دفاعی فورسز میں خدمات انجام دے رہی ہیں یا مستقبل میں شامل ہونے کی خواہشمند ہیں۔

پنجپن سالہ سوزن کوائل نے 1987 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ کئی اہم کمانڈ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ وہ آسٹریلوی فوج کی کسی بھی سروس برانچ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آسٹریلوی فوج کو صنفی امتیاز اور جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ اکتوبر میں دائر کیے گئے ایک قانونی مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ فوج ہزاروں خواتین افسران کو منظم جنسی زیادتی اور امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں خواتین کی موجودہ شرح 21 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ قیادت میں ان کا تناسب 18.5 فیصد ہے۔ حکومت نے 2030 تک خواتین کی شمولیت کو 25 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

حکومتی ردوبدل کے تحت وائس ایڈمرل مارک ہیمنڈ کو آسٹریلوی ڈیفنس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو ایڈمرل ڈیوڈ جانسٹن کی جگہ لیں گے۔ جبکہ ریئر ایڈمرل میتھیو بکلی کو نیوی کا نیا سربراہ نامزد کیا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -