امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ پیر کے روز صبح دس بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے) سے ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی شپنگ ٹریفک کو روک دیا جائے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں یومیہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی تیل کی ترسیل بند ہو جائے گی جس سے عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ فیصلہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر اس جہاز کا راستہ روکے گی جو ایران کی بندرگاہوں کی جانب جا رہا ہوگا یا وہاں سے آ رہا ہوگا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی ہے کہ ناکہ بندی صرف ایرانی بندرگاہوں سے متعلق ہوگی اور دیگر ممالک کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رہے گی۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سابق امریکی نیول چیف ایڈمرل گیری راگ ہیڈ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران خلیج میں موجود جہازوں پر حملہ کر سکتا ہے یا ان خلیجی ریاستوں کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ایران نے یومیہ اٹھارہ لاکھ چالیس ہزار بیرل جبکہ اپریل میں اب تک سترہ لاکھ دس ہزار بیرل خام تیل برآمد کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کا ایک بڑا ذریعہ منقطع ہو جائے گا۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ ٹریفک، جو جنگ کے آغاز سے ہی متاثر تھی، واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود تاحال بحال نہیں ہو سکی ہے۔ اتوار کے روز پاکستان کے دو آئل ٹینکرز شالیمار اور خیرپور نے متحدہ عرب امارات اور کویت سے کارگو لوڈ کرنے کے لیے خلیج میں داخلہ لیا، جبکہ دیگر ممالک کے ٹینکرز نے محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں چین سرفہرست ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے بعد بھارت بھی ایران سے تیل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی کل برآمدات کا بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے ہی دنیا بھر تک پہنچتا تھا، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کی ضروریات پوری کرتا تھا۔
