-Advertisement-

وائٹ ہاؤس: پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات کے لیے ممکنہ مقام

تازہ ترین

ایران تیل کی برآمدات بند کیے بغیر دو ماہ تک کام چلا سکتا ہے، تجزیہ کار

لندن (رائٹرز) ماہرین کے مطابق تیرہ اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے بعد ایران اپنی تیل...
-Advertisement-

وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں منعقد کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی معاہدے کے امکانات پر بہتری کی امید ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بات چیت جاری ہے اور آئندہ مذاکرات کے اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے جاری مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے غیر معمولی اور شاندار قرار دیا اور واشنگٹن اور تہران کے مابین ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو کلیدی حیثیت دی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے بدھ کے روز تہران پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفد دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال کرے گا۔

اس سے قبل اسلام آباد میں 20 گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات ہوئے تھے جن میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام، آبنائے ہرمز اور امریکی پابندیوں جیسے اہم معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو سکا تھا۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی مہم کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی جس سے عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی ثالثی کے بعد 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگرچہ ابتدائی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تاہم پاکستان پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے فریقین کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، جو اس بحران میں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے کردار کا عکاس ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -