امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ برطانوی بادشاہ چارلس سوم کا آئندہ ہفتے متوقع دورہ امریکہ دونوں ممالک کے مابین کشیدہ تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
برطانوی بادشاہ پیر کے روز چار روزہ دورے پر امریکہ پہنچیں گے، تاہم ایران کے خلاف جنگ اور جیفری ایپسٹین اسکینڈل جیسے معاملات اس دورے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس دورے کی افادیت پر یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ چارلس ایک شاندار شخصیت ہیں اور ان کا دورہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے یقیناً مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بطور بادشاہ چارلس سوم کا پہلا سرکاری دورہ امریکہ ہوگا جو برطانوی حکومت اور صدر ٹرمپ کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران ملکہ کمیلا بھی ان کے ہمراہ ہوں گی، جس کے بعد بادشاہ تنہا برمودا کا رخ کریں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی و اسرائیلی جنگ میں شامل نہ ہونے پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ سمیت دیگر اتحادیوں کو اس کارروائی میں ساتھ ہونا چاہیے تھا، اگرچہ انہیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس وقت ایک سیاسی بحران کا شکار ہیں، جس کی وجہ جیفری ایپسٹین کے قریبی ساتھی پیٹر مینڈلسن کو واشنگٹن میں برطانوی سفیر تعینات کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وزیراعظم اسٹارمر اس سیاسی بحران سے تب ہی نکل سکتے ہیں جب وہ تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے کے لیے نارتھ سی کو کھولنے اور اپنی امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کا فیصلہ کریں۔ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر اسٹارمر نے ایسا نہ کیا تو ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔
