-Advertisement-

امریکہ کا مریجوانا کے قوانین میں نرمی کا فیصلہ، منشیات کی درجہ بندی میں بڑی تبدیلی

تازہ ترین

بنگلہ دیش میں خسرہ کا پھیلاؤ سنگین، 194 بچوں کی ہلاکت، 28 ہزار سے زائد متاثر

بنگلہ دیش میں خسرہ کے پھیلاؤ کے باعث صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ...
-Advertisement-

امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ مریجوانا کی کچھ مصنوعات پر عائد پابندیوں میں فوری نرمی لائے گا اور اس منشیات کو کم خطرناک زمرے میں شامل کرنے کے لیے کام کا آغاز کرے گا۔ یہ فیصلہ گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکی منشیات کی پالیسی میں کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

اس اقدام سے پورے امریکہ میں مریجوانا قانونی نہیں ہوگی، تاہم اس سے 47 ارب ڈالر کی صنعت کے لیے رکاوٹیں کم ہونے کی توقع ہے۔ فی الحال امریکہ کی تقریباً نصف ریاستوں میں تفریحی اور تقریباً تمام ریاستوں میں طبی مقاصد کے لیے اس کا استعمال کسی نہ کسی شکل میں قانونی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت، ریاستی سطح پر منظور شدہ طبی مریجوانا کو ہیروئن جیسے انتہائی نشہ آور زمرے سے نکال کر کم پابندی والے زمرے میں منتقل کیا جائے گا، جس میں عام درد کش ادویات اور کیٹامائن شامل ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظور شدہ مصنوعات بھی اسی نئے زمرے میں آئیں گی۔

ایکٹنگ اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا ہے کہ حکومت اس عمل کو تیز کرے گی تاکہ اس پودے کے تمام استعمال کو کم خطرناک قرار دیا جا سکے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ سائنسی تحقیق کی راہ ہموار کرے گا جس سے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کو مستند معلومات میسر آئیں گی۔

یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے محکمہ انصاف کو مریجوانا پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس فیصلے سے کینوپی گروتھ، ٹلرے برانڈز اور ٹرولیف کینابس جیسی کمپنیوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 تک قانونی فروخت 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ تاہم، اس فیصلے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ سینیٹر ٹام کاٹن نے اسے غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی مریجوانا ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہے اور اس سے نفسیاتی مسائل اور حادثات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 جون سے اس منشیات کی درجہ بندی تبدیل کرنے کے لیے ماہرین کی رائے اور شواہد اکٹھا کرنے کی کارروائی شروع کرے گا۔ اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ نے بھی ایسی کوشش کی تھی جسے ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -