برطانیہ کے شمال مغربی علاقے میں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ نامی تنظیم کے مراکز پر چھاپے مار کر نو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ بدھ کی صبح کیے گئے اس آپریشن میں پانچ سو کے قریب برطانوی پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں چھ مرد اور تین خواتین شامل ہیں جن پر جدید دور کی غلامی، زبردستی شادی اور جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات ہیں۔
چیشائر پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک خاتون کی جانب سے مارچ میں درج کرائے گئے الزامات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ متاثرہ خاتون، جو ماضی میں اس گروہ کا حصہ رہ چکی ہیں، نے سنہ 2023 کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے سنگین شکایات درج کرائی تھیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیقات مذہب کے خلاف نہیں بلکہ موصول ہونے والے جرائم کے الزامات پر مبنی ہیں۔
گرفتار ہونے والوں میں دو امریکی مرد، ایک امریکی خاتون، دو میکسیکن مرد، ایک اطالوی خاتون، ایک ہسپانوی مرد، ایک سویڈش خاتون اور ایک مصری شہری شامل ہیں۔ چیشائر کانسٹیبلری کے چیف سپرنٹنڈنٹ گیرتھ رگلی نے کہا کہ یہ آپریشن ایک تفصیلی اور مضبوط تفتیش کا نتیجہ ہے۔
تنظیم کے وکلاء نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ کا مرکز برطانیہ کے علاقے کرو میں واقع ہے، جہاں تقریباً ڈیڑھ سو افراد رہائش پذیر ہیں جن میں 56 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تنظیم سنہ 2021 میں سویڈن سے برطانیہ منتقل ہوئی تھی۔
اس تنظیم کی بنیاد مصری نژاد امریکی عبداللہ ہاشم نے رکھی تھی جو خود کو مہدی اور مسیح کا جانشین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ گروہ اپنے غیر روایتی عقائد کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلم اکثریتی ممالک میں تنقید کا نشانہ رہا ہے اور کئی ممالک میں اس پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ اس سے قبل یہ تنظیم مصر اور جرمنی میں بھی فعال رہی ہے۔
