امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ معاہدے کے تصور کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ اس کی حتمی دستاویزات کے منتظر ہیں۔ فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے کسی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ایران پر دوبارہ فضائی حملے کرنے کا آپشن اب بھی موجود ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ایک نیا فارمولا پیش کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا اور امریکی ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مراحل کے لیے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ اس پیشکش میں ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی افواج ایران کے گردونواح سے انخلا کریں، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور تمام محاذوں بشمول لبنان پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ فی الحال یہ تجاویز قابل قبول دکھائی نہیں دیتیں کیونکہ ان کے بقول ایران نے اپنے اقدامات کی بھاری قیمت نہیں چکائی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہیں عسکری کارروائی میں کوئی جلدی نہیں ہے، تاہم انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ چودہ نکاتی تجاویز میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا کنٹرول میکانزم بھی شامل ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری تنازع کو آخری مرحلے پر منتقل کرنے کا مقصد ایک سازگار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔ تہران کا اصرار ہے کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران واشنگٹن کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
واشنگٹن اور اسرائیل نے چار ہفتے قبل ایران پر بمباری کا سلسلہ معطل کر دیا تھا، تاہم اب بھی کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنے والے کسی معاہدے کے بغیر جنگ ختم نہیں کرے گا، جبکہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر پرامن قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ پر ملکی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے باعث امریکہ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ریپبلکن پارٹی کو عوامی ردعمل کا خدشہ بھی لاحق ہے۔
