چار سدہ میں مذہبی اسکالر مولانا محمد ادریس پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ایک مشتبہ عسکریت پسند کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا محمد ادریس کے ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے حاصل کردہ موبائل فون ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے تکنیکی معاونت بھی طلب کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مردان ریجن میں ماضی کے ہائی پروفائل مقدمات میں ملوث ملزمان کو بھی شامل تفتیش کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
پولیس ان افراد کی پروفائلنگ کر رہی ہے جنہوں نے حملے سے قبل مولانا محمد ادریس کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شناخت شدہ ملزم کے پس منظر کی تصدیق اور مزید ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
