-Advertisement-

معرکہ حق کے بعد پاکستان ایک مضبوط قوت بن کر ابھرا ہے: عطا تارڑ

تازہ ترین

اقوام متحدہ میں ایران مخالف امریکی قرارداد: چین اور روس کی جانب سے ویٹو کا امکان

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کی ہے جس میں ایران سے مطالبہ...
-Advertisement-

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ایک سنجیدہ اور مضبوط قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فتح قوم کے غیر متزلزل عزم اور حقائق و اسٹریٹجک شفافیت کے ذریعے عالمی بیانیے پر چھا جانے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تقریب میں حکومتی عہدیداران، دانشوروں، سفارت کاروں، میڈیا نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا کر سچائی کو دبانے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے پابندیوں کے بجائے ڈیجیٹل جدت کا راستہ اپنایا۔ پاکستانی ڈیجیٹل ٹیموں نے بھارت کے اندر مخصوص مقامات کو جیو ٹیگ کر کے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ویڈیوز اور حب الوطنی پر مبنی مواد براہ راست بھارتی عوام تک پہنچایا، جس سے انہیں اپنی حکومت کے پروپیگنڈے پر سوال اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قیادت کی تمام سطحوں پر مربوط حکمت عملی کے باعث بھارت کے خلاف بیانیے کی جنگ میں فیصلہ کن کامیابی ملی۔ انہوں نے پہلگام واقعے کے بعد اپنے دورہ آزاد کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کے وفد کے ہمراہ بیلہ نور شاہ کا دورہ کیا، جس کے بارے میں بھارت نے دہشت گردوں کے ٹھکانے ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ وفد کو وہاں دہشت گردی کے بجائے ایک پبلک اسکول اور معمول کی زندگی گزارتے ہوئے لوگ ملے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح مریدکے اور بہاولپور کے دوروں کے ذریعے بھی بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا، جس کے ردعمل میں مشرقی پڑوسی ملک نے بزدلانہ حملہ کیا۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے جارحیت کی بنیاد محض جھوٹ اور افسانوں پر مبنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشنز کا عادی ہے اور آج بھی دو قومی نظریے کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے عروج کے باعث اقلیتیں ظلم کا شکار ہیں، جس سے پاکستان کے قیام کی بنیاد کی سچائی مزید واضح ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی بھارت کا داخلی مسئلہ ہے جبکہ کشمیر کا تنازع ایک بیرونی معاملہ ہے، جس پر بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا انعقاد ہونا چاہیے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -