پوپ لیو نے اپنی سربراہی کے پہلے سال مکمل ہونے کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نفرت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ یہ بیان پوپ نے جمعہ کے روز پومپئی کے دورے کے دوران ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے دعا کی کہ خدا حکومتی ذمہ داریوں کے حامل افراد کے دلوں کو نرم کرے تاکہ تشدد اور برادر کشی کی نفرت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
پوپ لیو نے عالمی امن کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی معیشت انسانی زندگی کے احترام کے بجائے اسلحے کی تجارت کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کو روزانہ دکھائی جانے والی موت کی تصاویر کا عادی نہیں ہونا چاہیے اور جنگ کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔
یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ویٹیکن میں ہونے والی اہم ملاقات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ اس ملاقات کو دو طرفہ تعلقات میں پائی جانے والی غیر معمولی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ پر تنقید کے بعد پوپ لیو کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ویٹیکن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پوپ لیو، جو سابق کارڈینل رابرٹ پریوسٹ ہیں، آٹھ مئی دو ہزار پچیس کو پوپ فرانسس کے انتقال کے بعد کیتھولک چرچ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ وہ پہلے امریکی پوپ ہیں جنہوں نے پیرو میں بطور مشنری اور بشپ طویل عرصہ گزارا۔ اپنی سربراہی کے ابتدائی دس ماہ خاموشی سے گزارنے کے بعد پوپ لیو نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ اور آمریت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔
