-Advertisement-

آبنائے ہرمز میں چینی عملے کے حامل آئل ٹینکر پر حملہ، چین کی شدید تشویش

تازہ ترین

ایران کا امریکہ پر سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ...
-Advertisement-

چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب چینی عملے کے حامل ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ لن جیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جہاز پر چینی شہری سوار تھے تاہم خوش قسمتی سے عملے کے کسی رکن کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری جہازوں کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چینی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا۔ حملہ اس وقت ہوا جب جہاز پر نمایاں طور پر یہ درج تھا کہ اس کا تعلق چین سے ہے اور اس پر چینی عملہ موجود ہے۔ یہ واقعہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان بدھ کو بیجنگ میں ہونے والی ملاقات سے قبل پیش آیا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ جہاز مارشل آئی لینڈز کے پرچم بردار کیمیکل ٹینکر جے وی انوویشن ہونے کا امکان ہے، جس نے پیر کے روز ڈیک پر آگ لگنے کی اطلاع دی تھی۔ یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب مینہ صقر کے نزدیک پیش آیا۔ تاحال جہاز کی سرکاری طور پر شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے اور سینکڑوں جہازوں سمیت تقریباً بیس ہزار ملاح خلیج میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے لڑائی روکنے کی تجویز پر تہران کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے متنازع مسائل کو فی الحال زیر التواء رکھا گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -