-Advertisement-

برطانیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں جنگی جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ، آبنائے ہرمز پر نظریں

تازہ ترین

معرکہ حق کی پہلی سالگرہ: مسلح افواج کا ملکی دفاع کے عزم کا اعادہ

چیف آف آرمی اسٹاف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل...
-Advertisement-

برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن کو مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام کثیر القومی کوششوں کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ حالات سازگار ہوتے ہی اس اہم تجارتی گزرگاہ کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ پیش رفت فرانس کی جانب سے اپنے کیریئر اسٹرائیک گروپ کو جنوبی بحیرہ احمر میں تعینات کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ برطانیہ اور فرانس اس دفاعی منصوبے پر مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد تجارتی راستوں پر بحری ٹریفک کا اعتماد بحال کرنا ہے۔

ایچ ایم ایس ڈریگن ایک جدید فضائی دفاعی تباہ کن جہاز ہے جسے رواں برس مارچ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے فوراً بعد قبرص کے دفاع کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا۔ اب اس جہاز کی مشرق وسطیٰ منتقلی کو ایک محتاط منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ایران کے ساتھ رابطہ کاری کی جائے گی اور اب تک ایک درجن سے زائد ممالک نے اس مشن میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی رائل نیوی کے پاس دستیاب وسائل محدود ہیں کیونکہ پرانے جہازوں کی ریٹائرمنٹ اور نئے جہازوں کی عدم دستیابی کے باعث بحری بیڑے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

فرانس اور برطانیہ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دس ہفتوں سے جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس مشن کا بنیادی مقصد خطے میں حالات کے معمول پر آتے ہی محفوظ تجارتی نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -