برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد سعدیہ سعادت نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ریڈنگ بورو کونسل کے کیورشم ہائٹس وارڈ سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وہ اس وارڈ سے منتخب ہونے والی پہلی مسلمان اور پاکستانی نژاد کونسلر بن گئی ہیں۔ برطانیہ کے حالیہ مقامی انتخابات میں اس حلقے سے ان کی کامیابی کو ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران ریفارم اور گرین پارٹیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باوجود سعدیہ سعادت نے گھر گھر جا کر رابطہ مہم چلائی اور کنزرویٹو پارٹی کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ ان کی محنت کے نتیجے میں یہ نشست جو ماضی میں لیبر پارٹی کے پاس تھی، اب کنزرویٹو پارٹی کے حصے میں آ گئی ہے۔
سعدیہ سعادت ریڈنگ کی پاکستانی اور دیگر برادریوں میں اپنی سیاسی اور سماجی خدمات کی بدولت گہری عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے حلقے میں متعدد ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کا آغاز کر رکھا ہے۔
پاکستان کی معروف نسٹ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل سعدیہ سعادت برطانیہ میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور نسٹ یو کے کے ساتھ بھی اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم سعدیہ سعادت اپنی سماجی و سیاسی خدمات کے اعتراف میں ہاؤس آف لارڈز سمیت مختلف اداروں سے درجنوں اعزازات اور تعریفی اسناد حاصل کر چکی ہیں۔
وہ ٹیلی ویژن پروگراموں میں سماجی و سیاسی مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرتی ہیں اور بین الاقوامی اخبارات میں کالم نگاری کے ذریعے کمیونٹی کے اہم چیلنجز کو اجاگر کرتی ہیں۔
اپنی اس تاریخی کامیابی کو اپنے والد ظفر سعادت کے نام منسوب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی ان کے والد کے غیر متزلزل اعتماد اور حمایت کا نتیجہ ہے۔
کامیابی کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سعدیہ سعادت نے کہا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی شکر گزار ہیں جنہوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ بطور کونسلر عوامی خدمت کے سفر کو مزید تندہی اور دیانتداری کے ساتھ جاری رکھیں گی۔
