صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے مستقبل کے حوالے سے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے گفتگو کریں گے۔ ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بیجنگ خود مختار جمہوریہ تائیوان پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
بیجنگ کے دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے براہ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ وہ اس معاملے پر صدر شی سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیاروں کی فروخت بند کر دیں اور یہ ان بہت سے موضوعات میں سے ایک ہے جن پر میری بات چیت ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکہ سرکاری طور پر صرف بیجنگ کو تسلیم کرتا ہے تاہم امریکی قوانین کے تحت وہ تائیوان کو دفاعی سازوسامان فراہم کرنے کا پابند ہے۔ اس کے برعکس 1982 کے سکس ایشورنسز کے تحت امریکی پالیسی یہ رہی ہے کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر بیجنگ سے مشاورت نہیں کی جائے گی۔
یوکرین پر روسی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے تائیوان کے حوالے سے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہاں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر شی کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی خوشگوار ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ میں ایسا کچھ نہیں ہونے دینا چاہتا۔
ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکہ تائیوان سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہے جبکہ چین صرف 67 میل کی دوری پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان کو جاپان اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تائیوان کا کنمن جزیرہ نما چین کے ساحل سے صرف دو کلومیٹر دور ہے جبکہ مرکزی تائیوان کا فاصلہ چینی سرزمین سے تقریباً 160 کلومیٹر ہے۔
اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند میڈیا ٹائکون جمی لائی کی رہائی کا مطالبہ بھی دوبارہ اٹھائیں گے۔ جمی لائی کو فروری میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو 78 سالہ بیمار شخصیت کے لیے موت کے مترادف ہے۔
جمی لائی کے حوالے سے ٹرمپ نے چینی موقف کو سمجھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چین کے لیے کافی مشکلات پیدا کیں۔ انہوں نے کہا کہ جمی لائی نے درست کام کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور جیل پہنچ گئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں بھی چاہتا ہوں کہ وہ رہا ہوں اور میں اس معاملے کو دوبارہ صدر شی کے سامنے لاؤں گا۔
