امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان 14 اور 15 مئی کو چین میں ہونے والی سربراہی ملاقات سے قبل امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ جہاز سازی کی صنعت کے تحفظ کے لیے عائد تجارتی پابندیوں پر سختی سے قائم رہیں۔
امریکی سینیٹ کے دو جماعتی گروپ نے صدر ٹرمپ کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ چینی صدر کے ساتھ مذاکرات کے دوران کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔ اس گروپ میں ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹیمی بالڈون اور مارک کیلی کے علاوہ ریپبلکن سینیٹرز ٹم سکاٹ اور ٹوڈ ینگ شامل ہیں۔
سینیٹرز کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے دہائیوں سے امریکی جہاز سازی کی صنعت کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لہذا ان کے خلاف تجارتی اقدامات کا مکمل استعمال ضروری ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے اور چین کو مزید رعایت دینے کی گنجائش نہیں ہے۔
واشنگٹن نے اپریل 2025 میں چینی جہازوں پر پورٹ فیس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد عالمی میری ٹائم انڈسٹری میں چین کے غلبے کو کم کرنا تھا۔ ایک امریکی تحقیقات کے مطابق چین کا جہاز سازی کی 150 ارب ڈالر کی عالمی مارکیٹ میں حصہ 2000 میں 5 فیصد تھا جو 2023 میں بڑھ کر 50 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ امریکی حصہ ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے۔
صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان آئندہ ملاقات میں ایران کی جنگ سرفہرست ہوگی، جس نے پہلے ہی امریکہ اور چین کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر رکھا ہے۔ چین، امریکی دباؤ کے باوجود ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار بنا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے جہازوں پر ایک دوسرے کے خلاف عائد فیسوں کو ایک سال کے لیے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ فیسیں 10 نومبر کو دوبارہ لاگو ہو جائیں گی اگر مزید توسیع نہ کی گئی۔
امریکی سینیٹرز نے اپنے خط میں شیپس فار امریکہ ایکٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ملکی شپ یارڈز میں سرمایہ کاری اور پیداوار کے لیے ٹیکس کریڈٹ فراہم کرے گا اور ایک دہائی کے دوران جہاز سازی کے منصوبوں کے لیے ڈھائی ارب ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری دے گا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
